اس وقت پاکستان میں بھی ایک نوجوان نے بیالیس روز سے کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتال کررکھی ہے۔ کالعدم بلوچ طلبا تنظیم بی ایس او آزاد کے کارکن لطیف جوہر کا مطالبہ ہے کہ ان کی تنظیم کے سربراہ زاہد بلوچ کو بازیاب کرایا جائے جنھیں دو ماہ قبل کوئٹہ سے اغوا کرلیا گیا تاہم پولیس اب تک اس اغوا کی ایف آئی آر کاٹنے سے انکاری ہے۔لطیف جوہر کا وزن تقریباً بیس کلوگرام کم ہوچکا ہے۔بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے لطیف کے کیمپ میں آکر اپیل کی کہ وہ بھوک ہڑتال ختم کردیں لیکن لطیف کا اصرار ہے کہ جنہوں نے زاہد بلوچ کو غائب کیا ہے اگر وہ ان کی گرفتاری تسلیم کرکے عدالت میں پیش کر دیں تو وہ بھوک ہڑتال ختم کرسکتے ہیں۔لیکن یہ وہ مطالبہ ہے جس پر عمل درآمد شائد وزیرِ اعلیٰ کے بھی بس میں نہیں۔لطیف کی بھوک ہڑتال تادم ِ تحریر جاری ہے۔